کولہاپور:یکم/دسمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مہارشٹرا کے ضلع کولہاپور میں خواتین وطالبات کے لیے ،یکم دسمبر2018 ، بروز ہفتہ ، بوقت 12 تا 2بجے دن، بمقام : مسکان لاج،سہرولی ٹول ناکہ میں خصوصی اجلاس بعنوان ’’شریعت اسلامی میں خواتین کے حقوق‘‘ منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز درس قرآن سے ہوا۔ محترمہ سمیہ نعمانی صاحبہ ،رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،نیرل، ممبئی، نے ’’ اسلام میں ماں کی اہمیت اور اولاد کی تربیت میں والدین کی ذمہ داری ‘‘پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج کا دور بڑا پرفتن دور ہے۔ ایمانی،اخلاقی،تہذیبی ارتداد چاروں طرف عام ہوتا جارہا ہے۔ہم ایک دوسرے پر الزام لگاکراپنے آپ کو نہیں بچاسکتے۔ آپ اور ہم برابر کے ذمہ دار ہیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنے’’ شریعت اسلامی میں عورتوں کا امپاورمنٹ ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں مسلم خواتین کو حقوق اور آزادی چودہ سو سال پہلے ہی مل چکی ہے۔ جب دور جاہلیت میں لڑکیوں کوزندہ دفن کیا جاتا تھا۔ اسلام نے بیٹی کوجینے کاحق دیا۔ نکاح کے وقت مہر کا حق دیا، نفقہ کا حق دیا، وراثت میں بیٹی کاحق رکھا، خلع کا حق دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں عورتوں کے حقوق کی باتیں تو کی جارہی ہیں، لیکن عورت کو حق ،انصاف اورمساوات دلانے کا جھوٹا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ عورتوں پر ظلم وستم، استحصال، ریپ ، قتل، چھیڑچھاڑ کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں۔ Crime against women روز بروزبڑھتے جارہے ہیں۔ گوگل کمپنی کا احتجاج اور میڈیا میں می ٹو کی لہر اس بات کی علامت ہے کہ خواتین کی آزادی کا نعرہ لگانے والے، خواتین کے مسائل حل کرنے اور انھیں حقوق دلانے میں پوری طرح ناکام ہوئے ہیں۔انھوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ تحفظ شریعت، نفاذ شریعت اور اصلاح معاشرہ کی کوششوں میں مضبوطی سے جڑ جائیں۔ محترمہ ثوبیہ لولے صاحبہ، پونے نے کہا کہ شریعت میں تمام مسائل کا حل ہے۔ ویمنس ونگ مسلم پرسنل لا بورڈکی جانب سے آل انڈیا مسلم ویمن ہلپ لائن 18001028426 اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ڈاکٹر رابعہ صاحبہ نے شرکاء اجلاس کا شکریہ اداکیا۔ خواتین و طالبات کی کثیر تعدا د اس اجلاس میں شریک تھیں۔